Tuesday, 7 April 2015

پیغمبرِ انسانیت کے نام پہلا خط

مرے آقا مرے مولا
یہ کیا ۔ ۔ کیسے ستم کی داستاں میرے رگ و پے میں سرایت کر گئی ہے 
کہ تیرے نعت گوکومرثیہ لکھنا پڑا ہے۔
نواح ِ کربلا میں ظلم کی کیسی کہانی 
وقت بُنتا جارہا ہے۔۔
 مجھے لگتا ہے شاید قریہ ءکرب و بلا کی
 قسمتِ خوں ریزمیں بس مرثیے لکھے ہوئے ہیں 
حسین ابن علی کے خون کی تحریک میں اتنی طوالت کس لئے ہے۔
مجھے اس دشت کی تاریخ کو معلوم کرنا ہے۔ 
 مجھے یہ سوچنا ہے آدمی کے خون کی یہ ریت پیاسی اسقدر کیوں ہے ۔ 
یزیدیت ہمیشہ کیوں اسی کوجنگ کا میداں بناتی ہے۔
یہیں سے باپ کیوں بچوں کی لاشیں اپنے ہاتھوں پر اٹھاتے ہیں ۔
 یہیں پر ماﺅں کی قسمت میں کیوں لکھا گیا ہے
 کہ جواں بیٹوں کی لاشوں پر مسلسل بین کرنے ہیں ۔۔
وہی کیوں صورتِ احوال پھردشتِ وفا میں ہے
مرآقا مرے مولا
مرے مولا یہ بازو دشمنِ امت نے کاٹے ہیں 
اجالے مانگتے تھے اس لئے ظلمت نے کاٹے ہیں
مرے مولایہ آنکھیں دستِ باطل نے نکالی ہیں 
دفاع اپنا یہ کرتی تھیں سو قاتل نے نکالی ہیں
مرے مولا یہ سینہ ظلم کے خنجر نے چیرا ہے 
دھڑکتا تھا مرادل اس لئے پتھر نے چیرا ہے
مرے مولا یہ پاﺅں آگ کے تودوں نے کچلے ہیں
ابھی ہونے ہیں جو ان تیل کے سودوں نے کچلے ہیں
مرے مولا یہ چہرہ موت کی چیلوں کے نرغے میں
سمندر پار سے آئے ہوئے فیلوں کے نرغے میں 
مرے مولا ابابیلوں کے لشکر بھیج صحرا میں 
جنہوں نے رُت بدل دی تھی وہ کنکر بھیج صحرا میں
اگر ایسا نہیں ممکن
مرے ہارے ہوئے مظلوم دل کو مرثیہ خوانی کی ہمت دے ۔
ہمارے عہد کے اس کربلا پرتیری امت کی یہ مجبوری بھی کیسی ہے
 کہ ہم مرتے ہوﺅں پر بین کرنے سے گریزاں ہیں۔
مجھے تیری قسم سب صاحبان ِ حرف گم سم ہیں
یہ ان کی خامشی میں خوف ہے یا درہم و دینار کا لالچ۔۔۔
مرے آقا مجھے کہنے دے یہ نفرت کے قابل ہیں 
قلم کو جو پکڑتی ہیں وہ تینوں انگلیاں بہتر ہے کٹ جائیں کہ سچائی نہیں لکھتیں۔
مرے مولا مرے آقا
طلسم ِ مرگ کے جادومیں محوِ استراحت ہیں
نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں
شبیں چنگاریوں کے بستروںمیںخواب بنتی ہیں
اندھیرے راکھ کے پہلو میں محوِ استراحت ہیں
خموشی کا بدن ہے چادرِ باردو کے نیچے
کراہیں درد کے تالو میں محوِ استراحت ہیں
پہن کر سرسراہٹ موت کی ، پاگل ہوا چپ ہے
فضائیں خون کی خوشبو میں محوِ استراحت ہیں
کہیں سویا ہواہے زخم کے تلچھٹ میں پچھلا چاند
ستارے آخری آنسو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ہو گا کسی بم سے اجالا۔۔بس ابھی ہوگا
یہ خطہ پُرسعادت، اے فروغِ دیدہ ءتقویم 
ابھی ہو گا شعاعوں کے لہو سے آئینہ خانہ
مرے مولا مگر مجھ کو
حسین ابن علی کے مرثیہ خوانوں کی آوازیں سنائی کیوں نہیں دیتیں
نیا اِک کربلا آبادپھر خاکِ نجف پر ہے
دمشق و قاہرہ میں ہے
یمن میں ہے عدن میں ہے
کوئی جلتے گھروں کے مرثیے لکھے
لہو لتھڑے سروں کے مرثیے لکھے۔۔
لکھے کہ کربلاغاصب کی بیعت کر نہیں سکتی۔
لکھے شبیر کا جو ماننے والا ہے
 وہ توپوں بموں سے ڈر نہیں سکتا۔
لکھے کچھ تو لکھے کہ فاختائیں خون میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
لکھے کچھ تو لکھے کس نے یہاں زیتون کی ٹہنی سے بم باندھا ہوا ہے۔
لکھا جائے کہیں کچھ امنِ عالم کی تمنا میں ۔
اُفق پر شام کی سرخی کسی سفاک شب کی پھر بشارت دے رہی ہے۔
مرے مولا مرے آقا
طلوعِ صبح سے پہلے بھیانک روشنی اٹھتی ہے گلیوں میں
دھماکہ خیز آوازوں سے بھرجاتی ہیں دیواریں
پرندے سہم جاتے ہیں
ہوائیں اوڑھ لیتی ہیں دھویں کی سرمئی چادر
درختوں سے اترتی راکھ مل کر اپنے چہرے پر
کہیں پر فاختہ کا ادھ جلاچہرہ
کہیں زیتون کی جلتی ہوئی لکڑی
کہیں تہذیب کے چولہے سے آئے گوشت کی خوشبو
کسی گڑیا کی ٹانگیں
کھلونے کا کوئی ٹکڑا
کہیں مجروح ہونٹوں کی لکیریں سی
کہیں پر کوئی فیڈر جسمِ حوا کا
اندھیری رات سی اینٹیں
کواڑوں کے سیہ تختے
نظر میں درد کا ملبہ
طلوعِ صبح سے پہلے
سمندرپار سے آتے اجالوں سے بچالے،کالی کملی میں چھپا لے
مرے آقا مرے مولا انہیں آواز دیتا ہوں 
جو انسانی سروں کی حرمتوں کے گیت لکھتے ہیں۔
جو تہذیبوں کے حامل ہیں۔
جہاں مرتی ہوئی بلی پہ آنکھیں بھیگ جاتی ہے 
وہ جن کے دل دھڑکتے ہیں۔
انہیں آواز دیتا ہوں۔
لکھے کوئی یہ کیسی بد نما تہذیب دنیا پر مسلط ہوتی جاتی ہے۔
جو کالے سونے کی خواہش میں انسانی سروں کو روندتی جاتی ہے ٹینکوں سے
انہیں آواز دیتا ہوں جنہوں نے امن کے نوبل پرائز اپنے سینے پر سجائے ہیں۔
کوئی توبے گناہوں کے لہو آشام موسم پر ذرا بولے ۔۔
 چلو دھیمے سروں میں ہی سہی۔۔۔
آواز تو آئے مگر یہ امن کے پیغام براپنے خدائے ظلم کی ناراضگی سے سہم جاتے ہیں
خدائے ظلم کے باغی قبیلوں کو سلام۔۔
انہیں آواز دیتا ہوں
 محبت کے جو نغمے گنگناتے ہیں۔
جنہیں دعویٰ مسیحا کی وراثت کا
مسیحا ۔زندگی کا جو پیغمبرتھا۔
مسیحا جوفروغِ عشقِ انساں میں صلیبوں پر سجا تھا۔۔۔
کسی کو قتل کرنا اس کے مذہب میں روا ہو ہی نہیں سکتا۔
مگر خاموش کیوں ہیں ابن ِ مریم کو خدائے لم یزل کا کچھ نہ کچھ یہ ماننے والے 
کہ انسانوں کو جرم ِ بے گناہی کی سزائیں مل رہی ہیں۔
نہیں شاید۔۔انہیں محسوس ہوتا ہے 
کہ توپوں سے نکلتی آگ تو تاریکیاں کافورکرتی ہے
بموں کی آتشیں برسات تو اس عہد تازہ کا چراغاں ہے
مرے مولا موے آقا ابھی رنگیں
گٹاروں پر بجائے جائیں گے جنگی ترانے
پریڈوں کے توازن پر نئے ردہم بنیں گے
ہر اک سم پر رکھا جائے گا اک کومل دھماکہ
کھنکتی فائرنگ سے دلرباسرگم بنیں گے
نئے گیتوں سے استقبال ہو گا فوجیوں کا
فضائے شب میں اتش بازیوں کے رنگ ہو نگے
بہاریں رمبا ناچیں گی شرابوں کے چمن میں
جدھر دیکھو گے سرافرازیوں کے رنگ ہو نگے
کسی کو اس سے کیا کہ کتنے نوحے، کتنی نظمیں
کہیں ماتم کی تھاپوں پر ہوائیں گا رہی ہیں
مقفل کھڑکیاں کی جائیں گی دل کے مکاں کی
جہاں سے بین کرنے کی صدائیں آرہی ہیں
مرے مولا مر آقا
انہیں آواز دیتا ہوں۔جو کہتے ہیں
محبت کا ہے ایماں بجلیوں پر مسکرادینا ۔۔
محبت کا ہے مذہب آگ پانی میں لگا دینا۔
محبت ہونکتے شعلوں کو سینے سے لگاتی ہے ۔
محبت آتشِ نمرور میں بھی کود جاتی ہے۔
اُٹھو اِس کربلا کی آگ پر پانی نہیں آنسو ہی برسا دو۔۔۔
مگر مولا
گلی میں دور تک پھیلی ہوئی ہے
سجاوٹ قمقموں کی
دریچوں سے دکھائی دے رہے ہیں
خوبصورت سے صنو بر
روشنی کا رنگ پہنے
درو دیوار پر اوپر سے نیچے تک
نفاست سے، بڑی ترتیب سے
آسودگی کے بلب جلتے جا رہے ہیں
صلیبیں تک سجائی جا رہی ہیں
کسی دہلیز کے باہر کھڑا ہے
کوئی باریش فربہ سا مجسمہ
جس کے اندر سے شعاعیں پھوٹتی ہیں
دوسو بارہ واٹ کی
کرسمس کے اجالے رات کی تصویرمیںجل بجھ رہے تھے
اندھیرا بڑھ رہا ہے دور صحرا میں کہیں پر
باوجوداسکے ہزاروں واٹ کے بم پھٹ رہے ہیں
مرے مولا
اُسے آواز دیتاہوں 
کہ شاید انجمن اقوامِ ِعالم نیند سے جاگے۔۔
مگر کیسے۔ ۔۔اسے توظلمتوں کے تازہ رکھوالے نے
 اپنے گھر میں لونڈی کی طرح رکھا ہوا ہے۔
کسی مالک کو اس کی ایک معمولی کینز آخر کہاں تک روک سکتی ہے۔۔
 ۔اُسے آواز دینا خود فریبی کا تسلسل ہے۔
مگر ہر ڈوبنے والاسہارے کےلئے تنکے پکڑتا آرہا ہے۔
انہیں آواز دیتا ہوں جو خود کو خادمِ الحرمین کہتے ہیں۔
مگر اِن بادشاہوں کوتو اے میرے رسول ِ اقدس و اعظم
ترے معصوم متوالوں کی چیخیں تک سنائی ہی نہیں دتیں۔
مری مدہم صدا اُن کی سماعت میں اتر سکتی ہے کیسے۔۔۔
مرے آقا ! سوا تیرے 
کسے آواز دوںکوئی دکھائی ہی نہیں دیتا۔۔ 
کہیں سرمایہ داری نے ہمیں بیچا ہے جی بھر کے
کہیں جاگیرداری نے ہمیں لوٹا ہے جی بھر کے
ملوکیت نے نوچے ہیں کہیں پر خال و خد اپنے
صلیبوں سے نصاریٰ نے کہیں مارا ہے جی بھر کے
یہودیت کے پاﺅں ہیں مسلسل جسم پراپنے
مرے مولا جہاں بھر میں ہیں بکھرے دل ، جگر اپنے
پڑے ہیں نیل کے ساحل سے لے کرکاشغر تک ہم
کئی حصوں میں بانٹا ہے بدن کوکاٹ کر اپنے
کہوں کس سے کہ ظالم کے پکڑ لے ہاتھ کو جا کر 
ستم کی آخری حدہے ۔
کہیں دنیا یہ کانٹوں سے بھری وادی نہ بن جائے ۔
مجھے بس اتنا کہنا ہے کہ ہراک پھول کو کھلنے کا حق ہے۔۔
 یہ آزادی ہے خوشبو کو کہ ہرگلشن کومہکائے 
طلوعِ صبح کامنظر ہے ہر اِک آنکھ کی خاطر ۔۔ 
ہوا ہر شخص کوسانسیں فراہم کرتی رہتی ہے 
جہاں میں ہر کسی کوپورا حق ہے
 اپنی مرضی کے مطابق زندگانی صرف کرنے کا۔۔۔
جنم جن کو دیا آزاد ماﺅں نے ۔۔
انہیں طوق ِ غلامی کوئی پہنا ہی نہیں سکتا۔۔
مرے آقا!مری اتنی دعا ہے بس ۔۔
زمیں پر امن کی تہذیب غالب ہو۔
سیہ توپوں کے تیرہ تر دھانوں میں ملائم فاختاﺅں کا بسیرا ہو۔۔
کوئی زیتون کی ٹہنی کہیں بمبار طیاروں میں اُگ آئے۔
اگر چہ ایسا ہوتا تو نہیں لیکن خدا کے کار خانے میں کبھی یہ ہو بھی سکتا ہے ۔۔
 خدا تو پھر خدا ہے نا۔۔
میر ے آقا مرے مولا
ضرورت ہے تری اُس رحمتہ العالمینی کی
کہ جو سایہ فگن ہے آسمانوں اور زمینوں پر
اسے برسا دے امت کے لہو آباد سینوں پر

No comments:

Post a Comment