Wednesday, 3 August 2011

یقین کی غیر فانی ساعت



شام کے آدھے بدن پر تھے شفق کے کچھ گراف
دن چرانے پر تلا تھا رات کا تیرہ لحاف
اور آنگن میں مرا ننھا سا صاحب ٰ
بھاگتا پھرتا تھا جانے کیا پکڑنے کیلئے
اپنی مٹھی کھول کر پھر بند کر لیتا تھا وہ
میں نے پوچھا ’’کیا پکڑتے پھر رہے ہو۔صحن میں‘‘
بولا کرنوں کو پکڑتا ہوں 
’’ابھی کچھ دیر میں سورج مرا
سوجائے گا
 بستر میں جا کر رات کے‘‘


1۔صاحب منصور

No comments:

Post a Comment